صفات ملکوتی
معنی
١ - فرشتوں کے خصائل، فرشتوں کے اوصاف۔ "اگر تزکیہ نفس حاصل ہو جائے تو سبحان اللہ انسان میں صفاتِ ملکوتی پیدا ہو جاتی ہے۔" ( ١٩٨١ء، افکار و ازکار، ١١٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے مرکب نسبتی ہے۔ عربی سے مشتق اسم 'صفت' کی جمع 'صفات' کے ساتھ کسرۂ صفت بڑھا کر عربی سے اسم مشتق 'ملکوت' میں 'ی' بطور لاحقۂ نسبت کے اضافے سے 'ملکوتی' ملنے سے مرکب 'صفات ملکوتی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٣٨ء کو "بستانِ حکمت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - فرشتوں کے خصائل، فرشتوں کے اوصاف۔ "اگر تزکیہ نفس حاصل ہو جائے تو سبحان اللہ انسان میں صفاتِ ملکوتی پیدا ہو جاتی ہے۔" ( ١٩٨١ء، افکار و ازکار، ١١٣ )